نظام تعلیم

حضرت مہتمم صاحب کی توجہ زیادہ تر تعلیم پر مرکوز ہے اسی وجہ سے تعمیر کے ساتھ ساتھ جامعہ ہذا میں ابتدائی طور پر مندرجہ ذیل شعبوں کا آغاز ہوا۔
(1) شعبہ قاعدہ:-
* قاعدہ حفظ قرآن کی بنیاد ہے اس لیے اس شعبہ میں قاعدہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
* قاعدہ اس طرح پڑھایا جاتا ہے کہ حروف و اعراب کی شناخت کے ساتھ ساتھ لہجہ،رواں اور وقف پر عبور حاصل ہو جائے نیز تجوید کے مطابق(صحیح ادائیگی اور معروف طریقہ کے مطابق )قرآنی حروف و الفاظ کو پڑھنا آ جائے۔
* جب تک مطلوبہ معیار کے مطابق قاعدہ کی تکمیل نہ ہو جائے،اس وقت تک ناظرہ شروع نہیں کرایا جاتاہے۔
* قاعدہ کی تکمیل کے بعد تین پارے ناظرہ پڑھایا جاتا ہے تاکہ بچوں نے قاعدہ میں جو کچھ پڑھا ہے اس کا اجرا ہو جائے اور قرآن پاک کو دیکھ کر پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے ۔جب تک درست ناظرہ پڑھنے پر عبور حاصل نہ ہو جائے،بچوں کو حفظ میں ترقی نہیں دی جاتی۔
* اس شعبہ میں قاعدہ کے ساتھ ساتھ شش کلمے، مسنون دعائیں اور نماز سکھائی جاتی ہیں۔
(2) شعبہ حفظ:-
* ابتدائی مراحل کے باوجود شعبہ حفظ کی کلاس الحمدللہ دیگر مدارس کے کلاسوں کی طرح نمایاں حثیت کا حامل ہے، جامعہ ہذا ایسے حفاظ کرام تیار کرنے کیلئے پرعزم رہے کہ نہ صرف یہ کہ حافظ قرآن بنے بلکہ ایک دن میں پورا قرآن مجید سنانے کی اھلیت بھی رکھے۔جامعہ ہذا نے ہر طالب علم کو ماہانہ کارڈ کا اجرا بھی کیا ہے جسمیں روزانہ کے اسباق کی تفصیل لکھی جاتی ہے اور ماہوار والدین کے پاس وہ کارڈ بھیجے جاتے ہیں جن پر وہ دستخط کرکے بچوں کے حالات سے واقفیت حاصل کر لیتے ہیں۔ہفتہ وار بچوں کا جائزہ بھی ہوتا ہے، تین مہینوں کے بعد امتحان لیا جاتاہے۔جامعہ ہذا کے قبولیت کا اندازہ کچھ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے ہی سال میں 10 خوش نصیب بچوں کو دستار فضلیت سے نوازہ گیا۔
(3) شعبہ درس نظامی:-
یہ آٹھ سالہ اسلامی کورس ہے جس میں سولہ علوم پڑھائے جاتے ہیں، اس وقت جامعہ ہذا میں درجہ متوسطہ سے لیکر درجہ ثانیہ تک بنین وبنات کے اسباق وفاق المدارس کے سیلیبس کے مطابق پڑھائے جاتے ہیں۔ جامعہ ہذا میں تکرار اور مطالعہ اساتذہ کی نگرانی میں کرائے جاتے ہیں۔اوپر درجات کیلئے ادارہ پر عزم ہے تاہم رھائش کے کمرے نہ ہونیکی بناء پر فی الحال اسی پر اکتفا گیاہے۔