تعارف

جامعہ دارالاحسان خیبرپختونخواہ کےضلع بنوں میں واقع ہے۔یہ ادارہ نہ توایسے دیہاتی علاقےمیں ہےجہاں تمام ترسہولیات میسرنہ ہوں۔اور نہ ہی وسط شہرمیں کہ شہری شورشرابااورفضائی آلودگی کیوجہ سے علمی فضاءمیں خلل پیداہو۔بلکہ بنوں بازار سے تقریباََ 3 کلومیٹرکےفاصلےپرمیریان روڈ کنگرجان بہادرکوٹکہ ابوذرسرورفتح خیل میں واقع ہے۔جامعہ کےاردگردسرسبزوشاداب کھیت اورباغات ہیں۔جوادارےکےحسن کودوبالاکرتا ہے۔جامعہ کاسنگ بنیادبروز بدھ7ستمبر2016 کورکھاگیا۔جامعہ کامسلک اہلسنت والجماعت مذہب حنفی دیوبندی ہے۔چونکہ حضرت مہتمم صاحب کی توجہ ترجیحی بنیادوں کی بناپرزیادہ ترتعلیم پرمرکوزہےنہ کہ صرف تعمیرپر،اسی وجہ سےتعمیرکےساتھ ساتھ جامعہ ہذامیں ابتدائی سال حفظ کادرس شروع ہوااورساتھ ساتھ درس نظامی میں درجہ متوسطہ،اولی اورثانیہ بنین وبنات کے اسباق بھی شروع کئےگئے۔ادارےکی قبولیت کی واضح دلیل یہ بھی ہےکہ پہلےہی سال میں دس خوش نصیب بچوں نےاپنےسینوں کوقرآن مجیدکےحفظ سےمنورکئے۔اسکےعلاوہ ہفتہ وارمحفل ذکراورماہواراصلاحی پروگرام کااہتمام بھی کیاجاتاہے۔جسمیں سینکڑوں لوگ شریک ہوکردلوں کواللہ ربّ العزت کی محبت سےگرماتےہیں۔مزیدیہ دعوت تبلیغ کا کام بھی احسن طریقےسےکیاجاتاہےاورہربدھ کوبیان ہوتاہے۔

جامعہ کےقیام کےاغراض ومقاصد
1) دینی تعلیم وتربیت کےذریعےمسلمانوں اورانکےبچوں کوسچامسلمان بنانااوراپنےپیارے ملک پاکستان کاوفادار اور مفید شہری بنانا۔
2) ہر طالب علم کو مذہبی۔اخلاقی اور معاشرتی قدروں سے مانوس ومتعارف کرانا۔
3) اسلام کی اشاعت کیلئےدینی اجتماعات اور علمی مذاکروں کا اہتمام کرنا۔
4) ایسے افراد کو تیار کرنا بیک وقت مفسر،محدث،فقی،صرفی اور نحوی ہوں۔
5) ایسے رجال کو پیدا کرنا جو اعلاء کلمۃکیلئے کفار کے ساتھ برسر پیکار ہوں۔
6) اور ایسے افراد کا تیار کرنا جو اشاعت دین کیلئے دنیا کے گوشہ گوشہ جا سکے اور دین کی ترویج کر سکیں۔
7) اور ایسے سیاسی افراد کو تیار کرنا جوظالم وجبر حکمرانوں کے آنکھوں میں آنکھیں ملا کر بات کر سکیں اور قوم کو یہود ونصاریٰ کی غلامی سےدور رکھیں۔
8) علم قرآن اورحفظ قرآن کی دولت تمام مسلمانوں کےگھرانوں تک پہچانا،اخلاق واعمال کیساتھ ساتھ طلباءکیلئے دینی تعلیم کامعیاری انتظام کرنا۔
9) جامعہ کا اہم مقصد ایسے علماء وفضلاء اور اسلام کے داعی تیار کرنا ہے جو کمال علم کے ساتھ تقویٰ، للہیت اور اخلاص کے زیور سے آراستہ ہوں، جن کا مقصد ِاساسی دین اسلام کی حفاظت، اس کی نشر واشاعت اور امت مسلمہ کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ہو۔
10) دوسری جامعات، مدارس اور علمی اداروں کے ساتھ روابط پیدا کرنا اور علمی، تدریسی اور تجرباتی میدان میں ان سے تعاون کرنا۔
11) نئی نسل کو مذہب سے قریب کرنا اور دینی اقدار اور اسلامی آداب وثقافت سے روشناس کرانا ۔
12) مسلمان عوام کی اصلاح وراہنمائی اور انہیں ملحدانہ افکار وباطل نظریات سے بچانے کے لیے علمی وتصنیفی کام کرنا۔
13) عربی کی اہم اور مفید کتابوں کا اردو اور اسی طرح اردو کی اہم اور مفید کتابوں کا عربی میں ترجمہ کرکے ان کی طباعت کا انتظام کرنا۔